نوبل انعام یافتہ بھارتی فلسفی نے کشمیر میں بھارتی پابندیوں کو مارشل لا قرار دیدیا

admin

نوبیل انعام یافتہ بھارتی ماہرِ معاشیات امرتاسین نے مودی حکومت پرسخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ہندو ازم کا دور دورہ ہے،کشمیر میں سخت مارشل لاء لگا ہواہے، مودی آرایس ایس ،اس کے پروپیگنڈا سےتعلق رکھتےہیں،بھارتی سپریم کورٹ منقسم ہےاور اجتماعیت کاتحفظ نہیں کرپارہی۔

امرتا سین نے امریکی میڈیاکو انٹرویو میں کہا ہےبھارتی وزیراعظم مودی انتخابات جیتنےکےبعدہندوازم کے فروغ میں مصروف ہیں،مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سےمتعلق آرٹیکل منسوخ کیا،مقبوضہ کشمیر دہائیوں سےجبری قبضےمیں ہے،اب وہاں سخت مارشل لا ہے، تشدد اور غیرقانونی حراستوں کی رپورٹس ہیں۔

امرتاسین نےکہاکہ مودی کوگیٹس ایوارڈملنے کی خبر پر حیران رہ گیا۔مودی کی بڑی کامیابی عدالت کو اپنے اورامیت شاہ کیخلاف گجرات فسادات کیس دبانے پرمجبورکرناتھا۔

انہوں نے مودی حکومت کےغیرقانونی اقدامات پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آج کل ہر چیز پر ہندوتوا کی سوچ غالب ہے، صدر،وزیراعظم ،پوری قیادت ہندو ہے،گذشتہ سالوں میں بھارت میں مسلمانصدر،سکھ وزیراعظم بھی رہ چکاہے۔ان

ہوں نے کہا کہ آج مسلمانوں کو گائے کاگوشت کھانے پرنشانہ بنایاجاتاہے،پرانی سنسکرت کی دستاویز ویداس کےمطابق گوشت کھاناممنوع نہیں ہے، ملک میں سکیولرازم،جمہوریت کازوال ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد سے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی گئی ہے اور انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

مزید خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

طب کا نوبیل انعام 3 سائنسدانوں کے نام

FacebookTwitter سال 2019 کیلئے طب کا نوبیل انعام مشترکہ طور پر 2 امریکیوں ولیم کیلن ، گریگ سمینزا اور ایک برطانوی سائنسدان سر  پیٹر ریٹ کلف کو دیا گیا ہے۔ سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں رواں سال کے نوبیل انعام برائے طب کا اعلان کیا گیا۔ تینوں سائنسدانوں کو یہ […]