دلیری یا بے وقوفی!!! سویڈن میں زندگی معمول پر

admin

اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترینانٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 مارچ۔2020ء) کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے باعث دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں مکمل یا جزوی لاک ڈاﺅن نافذ ہے، وہیں ایک یورپی ملک میں معمولات کے مطابق زندگی رواں دواں ہے.ایسے وقت میں جب یورپ کورونا وائرس کا مرکز ہے اور کئی یورپی ممالک میں تیزی سے نئے کیس سامنے آنے کے ساتھ ساتھ وہاں ہلاکتیں بھی ہو رہی ہیں وہاں سویڈن میں معمول کے مطابق زندگی رواں دواں ہے، وہاں بھی تین ہزار سے زائد کورونا کیسز سامنے آ چکے ہیں اور ہر بڑھتے دن وہاں کیسز میں اضافہ ہی ہو رہا ہے لیکن اس باوجود وہاں پر لاک ڈاﺅن نہیں ہوا اور نہ ہی لوگوں نے کورونا کے ڈر

کی وجہ سے باہر جانا چھوڑا ہے.

رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ یورپی ملک سویڈن میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے باوجود معمولات زندگی بحال ہیں اور وہاں پر نہ صرف کافی شاپ کھلی ہوئی ہیں بلکہ وہاں شراب خانوں سمیت جوا خانے بھی کھلے ہوئے ہیں جبکہ دنیا کے دیگر ممالک اور یہاں تک پڑوسی ممالک میں بھی سخت لاک ڈاﺅن نافذ ہونے کے باوجود سویڈن میں لاک ڈاﺅن کا اعلان نہیں کیا گیا البتہ حکومت نے لوگوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی ہیں.سویڈن کی حکومت نے لوگوں کو تجویز دی ہے کہ وہ گھروں سے بیٹھ کر کام کریں اور باہر جانے کے بعد ایک دوسرے سے دوری اختیار کریں جب کہ 70 سال سے زائد عمر کے لوگ گھروں سے نہ نکلیں تو اچھا ہے.سویڈین کی حکومت نے کسی بھی جگہ 50 افراد کے ایک ساتھ کھڑے ہونے تک کی اجازت دے رکھی ہے، تاہم 50 سے زائد افراد کے مجمع پر پابندی ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ سویڈن کی حکومت نے کسی بھی ہوٹل، جوا خانے یا نائٹ کلب میں لوگوں کے بیٹھنے پر پابندی نہیں لگائی بلکہ وہاں کھڑے ہونے اور رش لگانے پر پابندی عائد کی ہے اور اب بھی سویڈن کے کئی شہروں میں ہوٹلوں مین زندگی رواں دواں ہے.اگرچہ کورونا وائرس کے خوف کی وجہ سے سویڈن کے لوگوں کے باہر نکلنے میں کمی ہوئی ہے، تاہم اب بھی لوگ باہر نکل رہے ہیں اور ہوٹلوں پر وقت گزارنے سمیت گلیوں اور سڑکوں پر ایک دوسرے سے تھوڑی سی دوری پر آرام سے چلتے دکھائی دیتے ہیںسویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں متعدد فاسٹ فوڈ، کافی شاپس، نائٹ کلب اور جوا خانے کھلے ہوئے ہیں اور لوگ معمول کے مطابق وہاں پر جمع ہو رہے ہیں، تاہم عام دنوں کے مقابلے وہاں رش میں کمی دیکھی جا رہی ہے.سٹاک ہوم کی پبلک ٹرانسپورٹ انتظامیہ نے تصدیق کی کہ اگرچہ ملک میں لاک ڈاﺅن نہیں ہے تاہم پھر بھی ان کی سواری میں 50 فیصد تک کمی ہوئی ہے اور لوگ پیدل چلنے اور ایک دوسرے سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں دوسری جانب سویڈن کے افراد نے بھی حکومت کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ان پر ذمہ داری بڑھ گئی ہے اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایک دوسرے سے دوری اختیار کریں اور زیادہ تر گھروں سے ہی کام کریں.خیال رہے کہ سویڈن میں 30 مارچ کی سہ پہر تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 3700 تک جا پہنچی تھی جبکہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی 110 تک جا پہنچی تھی، تاہم اس باوجود وہاں پر یورپ کے دیگر ممالک اور خاص طور پر پڑوسی ممالک کی طرح خوف نہیں دیکھا جا رہا.سویڈن کے بر عکس یورپ کے زیادہ تر ممالک میں مکمل یا جزوی لاک ڈاﺅن نافذ ہے جب کہ اٹلی اور اسپین جیسے ممالک میں تو انتہائی سخت لاک ڈاﺅن نافذ ہے، جہاں کورونا کے مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے.اس وقت کورونا وائر س کے سب سے زیادہ مریض یورپ میں ہیں، جہاں تقریبا دنیا کے نصف مریض موجود ہیں جب کہ ہلاکتیں بھی سب سے زیادہ یورپ میں ہو چکی ہیں 30 مارچ کی سہ پہر تک دنیا بھر میںکورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 7 لاکھ 25 ہزار تک جا پہنچی تھی جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 34 ہزار سے زائد ہو چکی تھی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

حرم شریف میں طواف کرنے کی اجازت دے دی گئی

حرم شریف میں مطاف کے حصے میں طواف کے سلسلے کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے قابل غور کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ، تمام دہشتگرد مارے گئے پٹرول میں 25 روپے اضافہ آج کے دن سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا تھا نیلام گھر میزبان طارق عزیز […]