اور اُنیس سال گزر گئے……..

admin

اور اُنیس سال گزر گئے۔۔۔۔

سچ کہا ہے کسی نے کہ وقت بہت ظالم چیز ہے اس نے گزرنہ ہی گزرنہ ہے چاہے بُرا ہو یا اچھا اس کا تعلق انسان کی قسمت سے ہے مگر وقت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں اس نے اپنی روٹین کے مطابق چلتے رہنا ہے۔

پہلا شکریہ ان دوستواحباب کے لیے جو میری تحریروں کو اپنے قیمتی وقت میں سے چند لمحے نکال کے پڑھتے ہیں اور پھر ان پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور اور مجھ نا چیز سے ہونے والی غلطیوں کی طرف نشاندہی کرواتے ہیں اور مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں جبکہ دوسرا شکریہ ان دوستواحباب کے لیے جہنوں نے میرے جنم دن، یومِ پیدائش چوبیس (24) اپریل کی آمد پر مجھے مبارک باد دی اور اپنی محبت کا اظہار کیا۔

یہ تو زندگی کا اصول ہے وقت کا چلن ہے کہ انسان اس دنیا ہیں آتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بچپن سے جوانی اور پھر جوانی سے بڑھپاے کی طرف آہستہ آہستہ اپنے قدم بڑھتا بڑھتا آخر کار اپنی حقیقی دنیا کی طرف چلا جاتا ہے اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملتا ہے۔اور پھر اس سے آگے انسان کی اصل زندگی شروع ہوتی ہے جس کے لیے وہ اس عارضی دنیا میں بھیجا گیا۔اور عارضی دنیا میں گزری گئی زندگی اس کی سمت کا تعین کرتی ہے کہ اس نے وقت کا درست استعمال کیا یا پھر وقت کا ضیاع کرنے والوں کی فہرست میں ہے۔
خواہشات و آزمائشوں میں جکڑے انسان کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وقت کس تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔کچھ لوگ ذمہ داریاں لینے کے ڈر سے زندگی کا مزہ نہیں لے پاتے جبکہ کچھ لوگ ذمہ داریوں کے بوجھ تلے اس قدر دبے ہوتے ہیں کہ وہ زندگی کے اصل تصور سے ہی آشنا نہیں ہو پاتے۔
اور اختتامِ سال پر کسی نے کہا ہے کہ۔۔۔۔

کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا۔۔
جیون کا اک اور سنہرا سال گیا۔۔۔

اور کوئی تو اپنی تعریف میں یوں آگے گیا اور کہنے لگا۔۔۔۔

یہ تو اک رسمِ جہاں ہے جو ادا ہوتی ہے۔۔
ورنہ سورج کی کہاں سالگرہ ہوتی ہے۔۔

انسان جب دنیا میں آتا ہے تو رب تعالٰی کہتا ہے جا تجھے آزادی ہے جس راستے پے چلنا چاہتا ہے چل جس کشتی کا مسافر بننا ہے بن جا لیکن یاد رکھنا ایک دن تم کو لوٹ کر تو میرے پاس ہی آنا ہے اور یہ تو اٹل حقیقت ہے کہ چاہے تو سو سال بھی گزار لے اس دنیا میں پھر بھی تیرا آخری مقام وہی ہے جس کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے ہمارے پیارے نبیؐ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے۔۔۔۔

“اے ابنِ آدم لذتوں کو توڑنے والی (یعنی موت کو) کثرت سے یاد کیا کرو۔

اور ایک اور جگہ ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ۔۔۔۔

“بے شک قبر کو یاد کرنے والا اور اس کی بہتر تیاری کرنے والا ہی سمجھ دار ہے”

اور ہر انسان اپنی سوچ و سمجھ کے مطابق اپنے آپ کو رکھتا ہے مثلاً اگر وہ سمجھے کہ جی میں بڑا گناہ گار ہوں اور ساری زندگی غفلت و نا فرمانی میں گزار چکا ہوں میں جس قدر بھی توبہ کر لوں میں اس قدر گناہوں کے بوجھ تلے دبہ ہوا ہوں کہ میری توبہ قبول نہیں ہو سکتی۔کیوں بھئ کیوں قبول نہیں ہو سکتی؟؟
تم کون ہوتے ہو یہ فیصلہ کرنے والے اللّٰہ نے سب اختیار انسان کو دیے مگر جزاوسزا کا فیصلہ کوئی نہیں کر سکتا ماسوائے اللّٰہ کے اللّٰہ کے سوا یہ اختیار کسی کے پاس نہیں کہ وہ کسی کو کافر کہے۔فرقہ پرستی کی اڑ میں ایک دوسرے کو کافر کہنے والے یہ یاد رکھیں کہ سامنے والے کو تو شاید کوئی فرق پڑے یا نہ پڑے آپ پر اس بات کا بوجھ ضرور آ جائے گا اور اس کا جواب آپ سے آخرت والے دن طلب کیا جائے گا اور جس دن آپ کو اُکسانے والے حضرتِ اقبال کے بقول مُلا حضرات آپ کی مدد تو کیا پہچان بھی نہ سکیں گے اُس دن آپ کو اس چیز کا احساس ہو گا۔
انسان کی بہترین صفت جس کو اللّٰہ تعالٰی بہت پسند فرماتے ہیں وہ اپنے دل کو صاف رکھنا ہے اس میں کسی کے لیے حسد نہ ہو کسی کے لیے بغض نہ ہو سب کے لیے دل صاف رکھا جائے یہ مومن کی بہترین نشانیوں میں سے ایک ہے۔ایک حدیث مبارکہ سے اس پر کافی روشنی ڈالی گئی ہے ایک مرتبہ مسجدِ نبوی میں محفل سجی تھی اور اللّٰہ کے پیارے محبوب بھی اس میں تشریف فرما تھے کافی صحابہ اکرام بھی موجود تھے اس خوبصورت محفل کے دوران آپؐ نے فرمایا اس دروزے سے جنتی آ رہا ہے سب صحابہ اکرام کی نگاہیں اس دروازے کی طرف ہوئی تو ایک انصاری صحابی داخل ہوئے ان کے چہرے سے وضو کا پانی ٹپک رہا تھا۔دوسرے دن پھر اُسی وقت پیارے آقاؐ نے فرمایا اس دروزے سے جنتی آرہا ہے پھر وہی انصاری صحابی جو کل داخل ہوئے تھے اندر آئے پھر اُسی طرح ان کے چہرے سے وضو کا پانی ٹپک رہا تھا تیسرے دن اس خوبصورت محفل میں پھر وہی وقت آیا تو آپؐ نے فرمایا اس دروزے سے جنتی آ رہا ہے پھر وہی پہلے والے صحابی اُسی تازہ وضو والی حالت میں داخل ہوئے۔اب کی بار اس محفل میں موجود صحابی حضرت عبداللّٰہ بن امر سے رہا نا گیا فرمایا انھوں نے ایسا کون سا عمل کیا ہے پیارے آقاؐ نے فرمایا خود جا کے پوچھ لو۔یاد رہے یہ وہ عبداللّٰہ بن امر ہیں جو سارا دن روزہ رکھتے اور ساری رات نوفل ادا کرتے اور ان کے بارے میں ہی آپؐ نے فرمایا عبداللّٰہ کھبی روزہ رکھا کرو اور کھبی چھوڑ دیا کرو اور کھبی عبادت کیا کرو اور کھبی سو لیا کرو کیوں کہ تمہارے بدن کا اور تمہارے گھر والوں کا اور تمہارے دوستوں کا بھی تم پر حق ہے۔یہ عبداللّٰہ بن امر اس انصاری صحابی کے گھر چلے گئے کہ میں پتہ تو کروں یہ کون سا ایسا عمل کرتے ہیں کہ ان کو جنت کی بشارت مل گئی ہے۔ان کے گھر آئے اور ان کے ہاں قیام کرنے کو کہا انھوں نے کہا بیٹا تمہارا اپنا گھر جب تک چاہو قیام کرو۔عبداللّٰہ بن امر نے سوچا رات کو دیکھوں گا ضرور یہ کوئی خاص عمل کرتے ہوں گے۔لہذا عبداللّٰہ بن امر سونے کا بہانہ بنا کر ایک آنکھ سے دیکھتے رہے کہ یہ کیا کرتے ہیں لیکن وہ عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد آئے اور آ کر سو گئے اور فجر کی اذان پر اُٹھے۔عبداللّٰہ بن امر حیران ہوئے کہ انھوں نے ساری رات سو کر گزار دی ایک نفل بھی ادا نہ کیا پھر بھی ان کو جنت کی بشارت ملی۔لیکن ملی کس عمل پہ عبداللّٰہ بن امر نے دو مزید راتیں ان کے ہاں گزریں کہ شاید اس رات ان کی طبیت ٹھیک نہ ہو مگر اگلی دونوں راتوں میں بھی ان کا کوئی عمل نہ پایا تو تیسری رات اچانک اُٹھ کر ان سے پوچھنے لگے کہ آپ نے ان تین راتوں میں تو کوئی خاص عمل نہیں کیا تو وہ کون سی بات ہے جس پر آپ کو جنت کی بشارت مل گئی تو وہ انصاری صحابی فرمانے لگے کہ میرے دل میں کسی کے لیے برائی نہیں میرے دل میں کسے کے لیے بغض نہیں میرے دل میں کسے کے لیے حسد نہیں میرا دل ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔تو معلوم ہوا کہ اپنے دل کو صاف رکھنے والوں کو اللّٰہ تعالٰی بہت پسند فرماتا ہے۔

عشق کے بارے میں بہت سے نظریات ہیں۔اور یہ کافی لمبی بحث ہے کہ مجازی عشق انسان کو عشقِ حقیقی کی طرف لے جاتا ہے۔عشقِ حقیقی کے بارے میں تو قلندرِلاہوری نے کہا نہ کہ۔۔۔۔

جنونِ عشق سے تو خدا بھی نا بچ سا اقبال
تعریفِ حسنِ یار میں سارا قرآن لکھ دیا

میں بنیادی طور پر مجازی عشق سے احساس و محبت کے رشتے کو افضل سمجھتا ہوں۔کیوں کہ عشق تو انتہا کی اک شکل ہے اور وہ تاجدارِ گولڑہ شریف پیر نصیر الدین نصیر صاحب اک شعر پڑھا کرتے تھے کہ۔۔۔۔

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی بحل جائے
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

بحرحال یہ اک لمبی بحث ہے اور لکھنے اور اس کا مزہ چکھنے میں کافی فرق ہوتا ہے اور ہر کوئی اپنی سوچ و سمجھ کے مطابق اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔

بحرحال میں نے ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدر میں سن ٢٠٠١ میں آنکھ کھولی۔ میرے انیس سال گزرے کچھ پتہ نہیں چلا کہ کیسے گزر گئے۔سب کچھ اک خواب سا نظر آتا ہے۔ اسی طرح اگر رب تعالٰی نے زندگی دی تو اگلے انیس کا بھی پتہ نہیں چلنا لیکن انسان کی نیچر ہے کہ اس کا خیال دنیاوی باتوں میں الجھ جائے تو اُسے سب کچھ بھول جاتا ہے اور وہ رب تعالٰی نے بھی فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ اگر تم دنیا کے ہو کر رہ جاو گے اور مجھے یاد نہ کرو گے تو میں اس طرح تمہیں غافل کروں گا کہ تم دنیا کے معامالات میں ہی الجھ کر رہ جاو گے۔

اب اس کے بعد انسان کو بھی سوچنا چاہیے کہ یہ سب دنیاوی کام ہیں جن میں ہم مشغول ہیں یہ سب کچھ یہاں ہی رہ جانا ہے کیوں کہ کافن میں جیب نہیں ہوا کرتی۔اور سکندرِ اعظم نے بھی اپنے آخری وقت میں کہا تھا کہ میرے دونوں آتھ کافن سے باہر رکھنا کیوں سب کو پتہ چلے کہ پوری دنیا پر حکومت کرنے والا بھی خالی ہاتھ جا رہا ہے۔اس لیے جس قدر ہوسکے اپنے رب کو یاد کریں اور رب تعالٰی اور اس کے پیارے نبیؐ کی خشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اپنی تحریر کا اختتام کروں گا کیوں کہ اک تجویز آئی ہے کہ مختصر تحریر زیادہ موثر ہوتی ہے لہذا اس تجویز پر عمل کرتے ہوئے اختتام جون ایلیاء مرحوم کی اس خوبصورت بات پر کروں گا کہ۔۔۔۔
ہم حسین ترین، امیر ترین، ذہین ترین اور زندگی کے ہر معاملے میں بہترین ہو کر بھی بالاخر مر ہی جاہیں گے۔

ازخود: امیر حمزہ عمر بھٹی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

کورونا سے برطانیہ میں پاکستانیوں کی اموات دیگر قوموں کے مقابلے میں سب سے زیادہ

پاکستانیوں کیلئے کورونا سے موت کا خطرہ 3 اعشاریہ 29 گنا : تحقیق قابل غور کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ، تمام دہشتگرد مارے گئے پٹرول میں 25 روپے اضافہ آج کے دن سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا تھا نیلام گھر میزبان طارق عزیز کا لاہور میں انتقال ہوگیا جہانگیر […]