اور احتساب سب کا ہو گا….؟

admin

اور احتساب سب کا ہو گا۔۔۔۔!

ملک میں پہلے ہی غیر یقینی سی صورتِحال ہے بلکہ تقریباً پوری دنیا میں حالات کچھ اس طرح کے ہی ہیں۔دنیا بھر میں مہلک وبا کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور لاکھوں لوگ اس کا شکار ہوچکے ہیں۔مگر اب تک اس کا علاج تلاش کرنے میں تمام عالم ناکام دکھائی دیتا ہے مگر اس کے باوجود کچھ لوگوں کے صحتیاب ہونے سے فضا میں کچھ بہتری سی آئی مگر ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔اب تک اس کا واحد علاج احتیاط ہی نظر آتا ہے۔

اس ہنگامی صورتِحال میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایک رپورٹ جس کا تعلق چینی اور گندم کی پچھلے دنوں پیدا ہونے والی کمی کے متعلق ہے منظرعام پر آئی ہے۔اس رپورٹ میں پیدا ہونے والے اس بحران کی مکمل تحقیق کے متعلق بتایا گیا ہے اس رپورٹ کو تیار کرنے کی سربراہی اُسی شخص کے پاس تھی جو آج سے دو تین سال پہلے اُس وقت کے وزیرِاعظم میاں محمد نوازشریف کی جائیداد کی جانچ پڑتال کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی جسے پاناما جے آئی ٹی کہا جاتا ہے کے بھی سربراہ تھے جن کا نام واجد ضیا ہے اور اپنے کام میں مہارت رکھنے کی وجہ سے مشہور ہیں۔
ویسے تو اس طرح کی مثال بہت کم ملتی ہے کہ ایک حکومت اس طرح کی رپورٹ پبلیش کرے جس میں اس کے اپنے اہم رہنما بھی مشکل میں پڑ سکتے ہوں۔ہمارے پاس ماضی کی کافی مثالیں موجود ہیں مثلاً اصغر خان کیس ہو یا سانحہ ماڈل ٹاون کی رپورٹ ہو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہمیشہ اس طرح کی رپورٹس چھپانے کی ہی کوشش کی گئی ہے۔ مگر موجودہ حکومت تو یہ کر گزری ہے۔
ویسے تو اس رپورٹ میں بہت سارے نام آئے ہیں مثلاً وفاقی وزیر مخدوم خسروبختیار اور صوبائی وزیرِ خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت کے بھائی مخدوم عمر شہریار ، چوہدی پرویز الہی کے بیٹے چوہدی مونس الہی ، شہباز شریف کے فرزند سلیمان شہباز اور مریم نواز کے سمدھی چوہدی منیر کا نام قابلِ غور ہے مگر سب سے اہم نام جو اس رپورٹ میں لیا گیا ہے وہ تحریک انصاف کے سب سے مضبوط اور موجودہ وزیرِاعظم کے فرنٹ مین جہانگیر خان ترین کا نام ہے۔
یہ وہ ہی جہانگیر ترین صاحب ہیں جن کو پی ٹی آئی کا سب سے اہم رہنما تصور کیا جاتا ہے اور موجودہ وزیراعظم عمران احمد خان نیازی کو اس جگہ تک پہچانے میں ترین صاحب خاصے پیش پیش تھے اور ترین صاحب کے بغیر شاید یہ ممکن بھی نہ ہو پاتا۔
ویسے تو میں انور مسعود (شاعر) صاحب کی اس بات کا حامی ہوں کہ۔۔۔

“A Common man has no right to discuss Politics.”

اور ان کا ایک فقرہ ہے جو کہ ان کی مشہورِ زمانہ نظم “اج کی پکائیے” کے آخر میں آتا ہےکہ۔۔۔

حکومتں دی گل توں حکومتں تے رہن دے۔۔۔۔

ویسے تو میں اس نظریے کا حامی ہوں مگر سیاست میں 2014 کے دھرنوں سے دیکھتا آ رہا ہوں جبکہ میرا اپنا سیاسی رومینس عمران خان سے مئی 2013 سے شروع ہوا اور 2014 کے دھرنوں میں اِسے عروج ملا اور 2015,16 میں تو حالت یہ تھی کہ میری عمر کے بچے (یعنی میں اس وقت 9th,10th میں تھا) فلمیں ڈرامیں دیکھا کرتے تھے اور میں حامد میر کا کیپیٹل،کاشف عباسی کا آف دی ریکاڈ اور کامران شاہد کا آون دی فرنٹ دیکھنے میں مشغول ہوتا تھا اور اس کے علاوہ حسن نثار صاحب کو میں بہت سنا کرتا تھا سنتا اب بھی ہوں مگر شاید اب وہ کشش نہ رہی جبکہ جاوید چوہدری ، اوریا مقبول جان ،ہارون الرشید ، ایاز امیر اور سہیل وڑائچ وغیرہ کی لت بھی مجھے آہستہ آہستہ لگتی گئی۔
بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب سے میں دیکھ رہا ہوں پاکستان تحریک انصاف کا سب سے Active بندہ جہانگیر ترین ہی ہے۔جہانگیر ترین کا اس جماعت کے ساتھ سفر اکتوبر 2011 میں شروع ہوا تھا اور اکتوبر 2011 کے مینارِ پاکستان لاہور والے جلسے میں سب سے بڑا گروپ جس میں غلام سرور خان، اسحاق خان خاکوانی اور سابق صدرِ پاکستان فاروق احمد خان لغاری کے دونوں فرزند (جو بعد میں چند اختلافت پر پارٹی چھوڑ گئے) جہانگیر ترین کی ہی سربراہی میں اس گروپ نے تحریک انصاف کو جلال بخشی اور دیکھتے ہی دیکھتے جہانگیر ترین پارٹی کے جنرل سیکرٹری بن گئے۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ جب 2002 کے ایکشن کے بعد عمران خان اپنی واحد سیٹ میانوالی سے جبکہ جہانگیر ترین اس وقت ق لیگ میں تھے اور رحیم یار خان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے تو جب یہ ہمارے ٹاک شوز میں آیا کرتے تھے تو تو خان صاحب ہم سے پوچھا کرتے تھے “یار سنا ہے یہ بڑا امیر آدمی ہے”
تو ہم بتاتے تھے کہ جی ہاں بڑا امیر آدمی ہے۔کئی شوگر میلز کا مالک ہے۔مخدوم سید احمد محمود اور ہمایوں اختر اور ہارون اختر خان کا کزن ہے جو اس وقت سیاسی ساکھ رکھتے تھے۔
اب معاملہ یہ ہے کہ جہانگیر خان ترین اس وقت 6 شوگر ملز کے مالک ہیں اور ان کا مارکیٹ شئیر بیس فیصد بنتا ہے۔ پنجاب حکومت نے شوگر ملز کو 18 ترمیم کے تحت اپنے اختیارت استعمال کرتے ہوئے تین ارب روپے کی سبسڈی دی جو کہ پہلی حکومتیں بیس ارب تک بھی دیتی رہی ہیں۔اس میں جہانگیر ترین کو 56 کروڑ اس حکومت میں اور تقریباً 2 ارب اور 44 کروڑ پچھلے یعنی نواز دورِ حکومت میں ملے۔
یہ سبسڈی شوگر کی ایکسپورٹ کرنے پر ملی۔
اس رپورٹ کے مطابق اس وقت شوگر ایکسپورٹ کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا اور اسی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا جس میں چینی کی قیمتیں بڑھی اور مزید بڑھنے کا امکان موجود ہے۔اب اس کی ذمہ داری شوگر مافیا کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کی بھی بنتی ہے کہ انھوں نے اس کی اجازت کیوں دی اور کیوں کابیہ نے اس کو پاس کیا۔ کیا یہ سب حکومت کی نظروں سے دور رہا؟؟؟ یہ ممکن ہی نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا وسیم اکرم پلس عثمان خان بزدار اس قابل ہیں کہ وہ وفاقی حکومت سے پوچھے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کر لیں میری عقل تو یہ تسلیم نہیں کرتی۔
جہانگیر خان ترین نے الزام لگایا ہے کہ وزیراعظم کے پرنسیپل سیکرٹری اعظم خان نے یہ میرے خلاف سازش کی ہے کیوں کہ میں وزیراعظم صاحب کو بیوروکریسی کو ہمیشہ اپنے کنڑول میں اور حد سے زیادہ اختیارت نہ دینے کے مشورے دیا کرتا تھا۔اور اعظم خان کو یہ باتیں اچھی نہ لگتی تھی۔

اب سب کو پچیس 25 اپریل کی آڈٹ رپورٹ کا انتظار ہے جس میں 9 شوگر ملز کا آڈٹ کیا جا رہا ہے جبکہ پاکستان میں 80 ٹوٹل شوگر ملز ہیں اگر سب کا آڈٹ کرویا جاتا تو بہتر ہوتا ان نو میں ترین گروپ کی تینوں ملز ہیں جبکہ خسرو بختیار گروپ کی ملز شامل نہیں ہیں جس سے زیادہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا یہ واقع ہی تو ترین گروپ کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔ مگر اس کا جواب یہ دیا جا رہا ہے کہ مخدوم خسرو بختیار کا ان ملز میں کوئی ذاتی شئیر نہیں ان میں ان کے بھائی مخدوم عمر شہریار کے شئیرز ہیں۔لیکن پھر بھی یہ سوال اُٹھتا ہے۔
کیا واقع ہی جہانگیر ترین کے ساتھ وہ ہاتھ تو نہیں ہو گیا جو روف کلاسرا کے مطابق کسی زمانے میں پیر صاحب پگارا نے سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ کیا تھا کہ انھیں استعمال کر کے چھوڑ دیا تھا مگر مجھے نہیں لگتا کیوں کہ پیر صاحب پگارا اور عمران خان صاحب کی سیاسی سوچ و فکر میں کافی فرق ہے۔
ایک بات تو ہے اس عمل سے اس چیز کی تو نفی ہوئی ہے کہ عمران خان صرف اپنے مخالیفین کا احتساب کر رہے ہیں اب تو انھوں نے اپنے سب سے اہم کھلاڑی کا احتساب شروع کر دیا اور خسرو بختیار وغیرہ جیسے ہوا کا رخ دیکھ کے بدلنے والوں کا احتساب تو سب سے پہلے ہونا چاہیے۔
جہانگیر خان ترین نے بیان دیا ہے کہ میرے خان صاحب سے تعلقات کچھ 19,20 ہوئے ہیں مگر پھر سے بیس ہو جائیں گئے۔
میرا نہیں خیال کہ جہانگیر ترین عمران خان کا ساتھ چھوڑیں گئے لیکن بقول شیخ رشید سیاست میں کوئی چیز آخر نہیں ہوتی یہ تو ٢۵ اپریل کی آڈٹ رپورٹ بتائے گی کہ اگے کیا ہوتا ہے ۔ اور سیاست میں کل کے دوست آج کے دشمن اور کل کے دشمن آج کے دوست والا چکر چلا ہی رہتا ہے اور سچ بھی یہ ہی ہے کہ پچھلے ٦٢ سال سے پاکستان کی سیاست اسی طرح ہی چلتی آ رہی ہے ہم تو صرف امید ہی بندھ سکتے ہیں کہ جو بھی ہو اس ملک کے لیے بہتر ہو۔اور احتساب سب کا ایک جیسا ہونا چاہیے اور ہوتا دیکھائی بھی دینا چاہیے۔
اور جس دن اس ملک میں امیر و غریب کے لیے قانون کا نظام ایک ہو گیا جس دن تھانے دار اور پٹوری امیر و غریب کو ایک ہی نگاہ سے دیکھے گا تب جا کہ یہ ہجوم ایک قوم میں تبدیل ہو گی اور معلوم نہیں وہ گھڑی کب جا کے آئے گی۔
عمران خان بہتری لانے کی کوشش تو کر رہا ہے مگر اس کے نیچے مشکلات ہی مشکلات ہیں اور بقول حبیب جالب۔۔۔۔

حال اب بھی وہی ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

ہمیں اپنے آپ سے تبدیلی کا آغاز کرنا ہو گا تب ہی ہماری بقا ممکن ہے ورنہ اگلے 72 سال بعد بھی یہ ہی حال ہو گا۔لیکن ہمیشہ اچھے کی امید رکھنی چاہیے۔

اللّٰہ تعالی اپنے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفٰیؐ کے صدقے اس ملک پر رحم فرمائے اور اس ملک کا حامی و ناصر ہو (امین)

تحریر : امیر حمزہ عمر بھٹی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

پشاور میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے پروفیسر کورونا وائرس سے انتقال کر گئے

پشاور میں کورونا وائرس سے پروفیسر متاثر ہو کر انتقال کر گئے قابل غور کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ، تمام دہشتگرد مارے گئے پٹرول میں 25 روپے اضافہ آج کے دن سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا تھا نیلام گھر میزبان طارق عزیز کا لاہور میں انتقال ہوگیا جہانگیر ترین برطانیہ […]