Connect with us

ٹیکنالوجی

اسکولوں میں اسمارٹ فونز کی استعمال پر فرانس نےمکمل پابندی لگا دی

Published

on

دنیا بھر میں طالبعلموں کے اندر موبائل فون کے بڑھتے استعمال کو تشویش کی نظر سے دیکھا جارہا ہے تاہم فرانس نے اس حوالے سے مکمل پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس حوالے سے نئی قانون سازی کی گئی ہے جس کے تحت اسکول میں اسمارٹ فونز اور ٹیبلیٹ وغیرہ کے استعمال پر رواں سال ستمبر سے مکمل پابندی ہوگی۔

اس قانون کا وعدہ فرانس کے صدر ایمانوئل مائکروں نے گزشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران کیا تھا جس کی وجہ فرانسیسی نوجوانوں میں ٹیکنالوجی کی لت کے حوالے سے موجود تشویش تھی۔

فرانس اس سے پہلے ہی گاڑی چلانے کے دوران اسمارٹ فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرچکا ہے، یہاں تک کہ کنارے پر کھڑے ہوکر بھی فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں، اس وجہ سے تعلیمی اداروں میں یہ پابندی غیر متوقع نہیں۔

فرانسیسی اسکولوں میں 2010 سے ہی کلاس رومز میں موبائل فونز کے استعمال کی اجازت نہیں مگر اب مکمل پابندی عائد کی جارہی ہے اورطالبعلم ان ڈیوائسز کو کلاسوں کے درمیان وقفے، دوپہر کے کھانے یا فارغ وقت میں بھی استعمال نہیں کرسکیں گے۔

واضح رہے کہ فرانس میں 12 سے 17 سال کے 90 فیصد بچوں کے پاس اپنے اسمارٹ فونز ہیں۔

اس پابندی کے حوالے سے کچھ حلقوں کی جانب سے مخالفت بھی کی گئی اور سگنل جام کرنا ممکنہ متبادل تجویز کیا مگر ماہرین کو ڈر ہے کہ موبائل فونز کا بہت زیادہ استعمال نوجوانوں نیند خراب کرنے کے ساتھ رویوں پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔

فرانسیسی وزیر تعلیم جین مائیکل پلانکیور کے مطابق موبائل فونز ہوسکتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں آگے بڑھانے میں مدد دیں مگر انہیں ہماری زندگیوں پر اثرانداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔

فرانسیسی ماہرین تعلیم کے مطابق اس وقت تعلیمی اداروں میں طالبعلموں کو دی جانے والی چالیس فیصد سزاﺅں کی وجہ موبائل فونز کا استعمال ہے مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ اس مکمل پابندی کو کس طرح ممکن بنایا جاسکے گا۔

فرانسیسی حکومت نے بھی ابھی تک واضح نہیں کیا کہ یہ پابندی کس طرح عائد کی جائے گی اور کیا بچوں کے بیگز کی تلاش لی جائے گی یا نہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مقبول خبریں

Copyright © 2018. All Rights Reserved Daily Pakistan